بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسٹریٹیجک سطح پر بھی ایک اہم چیلنج پایا جاتا ہے؛ ٹرمپ نے اپنی دوسری صدارتی مدت میں، ایران کے خلاف پابندیوں کے نظام کی ناکارہ ہونے کی وجہ سے، فوجی حملے کو ترجیح دے کر جنگ کا انتخاب کیا۔ اور اب، پابندیوں کی پالیسی پر واپسی کا مطلب 'فوجی حکمتِ عملی میں شکست تسلیم کرنے کا اعلان' ہے۔
اہم نکات:
• ميں نے پہلے سے ناکام "Operation Economic Outcast" کے آغاز کے موقع پر امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کا خطاب، ـ جو ایک بھاری ابلاغیاتی-تشہیراتی مہم کے ساتھ انجام پایا، ـ پڑھ لیا۔ پابندیوں کی پیروی کرنے اور جاننے والوں کے لئے اس میں کوئی نیا نکتہ نہیں تھا۔ میں نے ردِعمل بھی دیکھا، بالکل وہی تھے۔ بنیادی سوال، جس کا امریکہ کو جواب دینا چاہئے تھا، بے جواب رہا؛ یعنی یہ کہ چین، روس اور ایران کے پڑوسیوں کو رویہ تبدیل کرنے اور امریکہ کے ساتھ تعاون پر کیونکر آمادہ کیا جائے گا؟
• بیسنٹ نے کام کا ایک حصہ لال پیلے بالوں والے ٹرمپ کو سونپا ہے اور کہتا ہے کہ "صدر [ٹرمپ] عالمی رہنماؤں سے ٹیلی فونک رابطے کر رہا ہے، ان رابطوں میں [ایران سے] ان کے تعلقات کے خاتمے کے لئے واضح درخواستیں شامل ہیں۔"
• لیکن [اقتصادی-ریاستی دہشت گردی کا سرغنہ] اسکاٹ بیسنٹ بظاہر بھول گیا ہے کہ یہ کام ٹرمپ پہلے بھی کر چکا ہے اور اس کا نتیجہ [ٹرمپ کے ساتھ ساتھ بیسنٹ] بھی دیکھ چکا ہے۔ اپنے دورۂ چین میں ٹرمپ نے چین سے بڑی صراحت سے کہا کہ وہ 'ایران سے تیل نہ خریدے'، لیکن ٹرمپ کو شی کا جواب ایک اہم جواب تھا۔ خود ٹرمپ کہتا ہے: "چینی صدر نے کہا کہ وہ ایران سے تیل خریدنا جاری رکھیں گے۔"
• اسٹریٹیجک سطح پر بھی ایک اہم چیلنج پایا جاتا ہے؛ ٹرمپ نے اپنی دوسری صدارتی مدت میں، ایران کے خلاف پابندیوں کے نظام کی ناکارہ ہونے کی وجہ سے، فوجی حملے کو ترجیح دے کر جنگ کا انتخاب کیا۔ اور اب، پابندیوں کی پالیسی پر واپسی کا مطلب 'فوجی حکمتِ عملی میں شکست تسلیم کرنے کا اعلان' ہے۔ لہٰذا ایک 'شکست خوردہ رسپر پاور' کے لئے چین جیسے اہم کھلاڑیوں کو ساتھ ملانا اور بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: مسعود براتی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ